ایک حالیہ نفسیاتی تحقیق کے مطابق منفی سوچ کے حامل افراد جو دلی طور پہ آپ کے حوالے سے کدورت رکھتے ہوں، ان کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ ہر جگہ کوئ نہ کوئ عذر تلاش کر کے آپ پہ تنقید ضرور کریں گے۔ ہمارے معاشرے میں موجود ایسے افراد کی مثال اس ساس جیسی ہے جو “آٹا گن دی ہلدی کیوں” کی علمبردار ہوتی ہے۔

خود تو اندر ہی اندر کڑھتے رہتے ہیں لیکن دوسروں تک اپنی منفیت کے جراثیم انجیکٹ کرنا باعث تمکنت اور ضروری اسائنمنٹ سمجھتے ہیں۔ ایسے افراد آپ کی کسی بھی اچھی پیش رفت یا جذبہ خیرسگالی کو ہمیشہ جھٹکتے رہیں گے، اگرچہ کھل کے اس کا اظہار نہیں کریں گے۔ کیونکہ وہ آٹومیٹکلی آپ کے بارے میں ایک مخصوص رائے گھڑ چکے ہوتے ہیں۔ آپ کچھ بھی کر لیں وہ آپ کے بارے میں منفی ہی رہیں گے۔

 

Birthday in Islam-کچھ سالگرہ کے بارے میں (NEW ARTICLE)

 

ایسے افراد کی 2 نشانیاں ہوتی ہیں۔

“1”

وہ عظیم ہوتے نہیں، عظمت زبردستی ان پہ لاد دی جاتی ہے، اس لیے وہ خود کو بیلنس نہیں کر پاتے۔ وہ ماتحت ہوتے ہیں اور یہی ان کا مسئلہ ہے کیونکہ ان کی سوچ ایک خاص حد سے آگے expand نہیں ہو پاتی۔ ظاہر ہے مزدور ذہنی طور پہ مزدور ہی رہتا ہے، اپنے آفیسر یا مالک کی طرح سوچ نہیں پاتا۔

“2”

 ایسے افراد کو کوئ نہ کوئ لقمہ دینے والا جی حضوریہ مل جاتا ہے جو ان کے ساتھ وہی کردار ادا کرتا ہے جو باراتی مجلس میں آنے والے بھنڈوں کی جوڑی میں “بھاگ لگے رہن” کہنے والے کا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس آپ مہذب معاشروں کا مشاہدہ کر کے دیکھ لیں۔ وہاں چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور معصومانہ حرکتوں کو بہت انجواے کیا جاتا ہے۔ وہ معمولی سے کارنامے پہ بھی گھنٹوں تالیاں بجاتے رہتے ہیں۔

وہ کسی کو حقیر نہیں سمجھتے۔ خوش رہتے اور خوش رکھتے ہیں۔ وہ بغض، کینہ، احساس محرومی، احساس کمتری، جلن، گھٹن اور فضول تنقید سے پاک ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کو اپنے نہیں بلکہ دوسروں ہی کے پوائنٹ آف ویو سے دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ اگر کسی کے ماتحت ہیں تو اپنی حیثیت کو خوش دلی سے قبول کرتے اور کسی بھی صورت اپنی ذمہ داری سے انحراف نہیں کرتے۔

اگر انہیں عزت ملے تو ناجائز مراعات ڈھونڈنے کی بجائے زیادہ لگن اور اخلاص سے کام کرتے ہیں تاکہ عزت دینے والے کی عزت پہ ان کی غیرذمہ دارانہ روش سے آنچ نہ آئے۔
وہ اپنے پروفیشن سے محبت کرتے ہیں اور یہی محبت وہ اپنے پروفیشنل ڈومین کو لیڈ کرنے والی ہستی سے بھی رکھتے ہیں۔
(اقتباس۔۔ گمشدہ میراث از قوام)
Share this...
Share on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedIn

One Reply to “احساس کمتری کا نفسیاتی جائزہ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *