Brotherhood in Islam

کیا بھائ واقعی بھائ کا بازو، اس کی طاقت ہوتا ہے؟ یا اکلوتا ہونا زیادہ بہتر ہے؟ اسلامی تاریخ سے تین مثالیں ملاحظہ ہوں۔

 

Brother or single

 

Islamic short story-ولی یا روحانی استاد کے ساتھ مرید کا تعلق کیا؟اسلامی واقعہ (Click Here To Read)

 

(1)

حضرت لقمان ع ایک لمبے سفر پہ گئے ہوئے تھے۔ واپس آئے تو اپنے غلام سے ملاقات ہوئ۔ حضرت لقمان ع نے اپنے غلام سے اپنے والد، بیوی، بہن اور بھائ کی خیریت دریافت کی۔ غلام نے بتایا کہ آپ کی عدم موجودگی میں آپ کے والد، بیوی، بہن، بھائ سب انتقال کر گئے۔ لقمان ع نے سب کی فوتگی پہ خاموشی اختیار کی لیکن جونہی انہیں بھائ کی موت کا علم ہوا، وہ ایک دم گھبرا گئے اور بولے:” اب میری کمر ٹوٹ گئ ہے۔”

 

(2)

 

جب حضرت عباس علمبردار شہید ہو گئے تو امام حسین علیہ السلام نے آہ بھر کے فرمایا:”اب میری کمر ٹوٹ گئ۔”

 

(3)

 

جنگ موتہ میں مولا علی کرم اللہ وجہ کے بھائ جعفر بن طیار ع شہید ہو گئے۔ خبر سنتے ساتھ ہی حضرت علی ع بلند آواز سے رونے لگے اور روتے ہوئے فرمایا:”جعفر کی شہادت نے میری پشت کی ہڈیاں ایک دوسرے سے جدا کر دی ہیں۔”

(اللہ عائلی زندگی میں ہمیں بہن بھائیوں کا باہمی احترام اور وفا نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین)

Share this...
Share on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedIn

One Reply to “کیا بھائ واقعی بھائ کا بازو، اس کی طاقت ہوتا ہے؟ یا اکلوتا ہونا زیادہ بہتر ہے؟ اسلامی تاریخ سے تین مثالیں ملاحظہ ہوں۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *