اردو ادب میں خداے سخن میر تقی میر اور مرزا اسد اللہ خان غالب کا بہت بڑا نام اور مرتبہ ہے۔ تاہم میر کا رنگ ڈھنگ اور مزاج ہمیشہ غالب سے آگے رہا ہے۔ وہ کیا خاص بات ہے جو میر کو استاد ثابت کرتی ہے۔ فرق بہت دلچسپ ہے۔ آئیے ایک تجزیہ کرتے ہیں۔
جب غالب کے سامنے مومن کا یہ شعر آیا
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئ دوسرا نہیں ہوتا

تو غالب نے بے اختیار کہا تھا کہ میرا سارا دیوا

ن مجھ سے لے لو۔ یہ شعر مجھے دے دو
گویا غالب خراج تحسین پیش کرنے کے ضمن میں

ایسا کہہ رہے تھے۔
لیکن ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا جب شیخ غلام ہمدانی مصحفی نے میر کی موجودگی میں یہ شعر پڑھا۔
یاں لعلِ فسوں ساز نے باتوں میں لگایا
دے پیچ اُدھر زلف اڑا ل

ے گئی دل کو
تو میر نے سن کے کہا
پھر پڑھ۔
بس اتنا سننا تھا کہ مصحفی نے اٹھ کے کئ دفعہ سلام کیا اور بار بار کہتے تھے کہ میں اپنے دیوان میں یہ ضرور لکھوں گا کہ خداے سخن نے یہ شعر دو بار سنا تھا۔
گویا میر کے فقط دو لفظ “پھر پڑھ” ہی کسی اعلی میڈل سے کم نہ تھے۔
اب یہ نہ کہا جائے کہ مومن کے مقابلے میں مصحفی زیادہ nervous excitement کا شکار ہو گئے تھے۔
میر کی شخصی کیفیت، داخلیت، محسوسات اور انانیت غالب کے مقابلے میں بہت آگے تھے۔ غالب نے زندگی کے بہت سے معاملات میں صلحت اور موقع محل کو برتا۔ یہ روش میر کے ہاں نہیں تھی۔ اسی لیے وہ بہت تنک مزاج اور سر پھرے ہو گئے تھے۔

Share this...
Share on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedIn

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *