کچھ سالگرہ کے بارے میں۔-BirthDay In Islam

کیا مسلمانوں کو سالگرہ منانی چاہۓ؟آۓ تھوڑا سا تاریخ پر نظر ڈالتے ہے

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے پہلی سالگرہ کب اور کس کی منائ گئ؟ تاریخ دانوں نے حیرت انگیز تحقیق کرتے ہوۓ لکھا ہے کہ دنیا میں سالگرہ کا تصور آج سے 4000 ہزار سال قبل مصر کی سرزمین سے منظرِ عام پہ آیا۔

اور سب سے پہلی سالگرہ فرعون کی منائ گئ۔ فرعون کب پیدا ہوا، یہ نامعلوم ہے لیکن مصر کے عوام نے ایک مخصوص دن فکس کیا جس کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ فرعون انسان سے خدا بنا۔ اور وہ بطور خدا سالانہ طرز پر اس کی سالگرہ پہ پوجا کرتے تھے۔

” احساس کمتری کا نفسیاتی جائزہ “ (Urdu Article)

مصر کے بعد سالگرہ کا یہ تصور یونان میں منتقل ہوا۔ دنیا کا سب سے پہلا کیک یونان میں Artemis نامی چاند کی دیوی کی سالگرہ کے لیے شہد کے رس سے تیار کیا گیا جو گول چاند کی علامت تھا کیونکہ Artemis شکار اور چاند کی دیوی تھی۔
یونان کے بعد رومیوں میں یہی پوجا ٹائپ سالگرہ کا رواج ہو گیا۔ دنیا کا سب سے پہلا گندم، شہد اور پنیر سے بنا کیک روم میں بنایا گیا۔

Birthday In Islam
Birthday In Islam, First Birthday in 18 century

 

اٹھارویں صدی عیسوی سے کیک اور موم بتی کو دیوی دیوتا کی پوجا سے آزاد کر کے بچوں کے لیے مختص کیا گیا۔ دنیا میں سب سے پہلے جس بچے کی سالگرہ منائ گئ وہ جرمنی کا باشندہ تھا۔

بطور مسلمان ذرا سوچئے، ہم سالگرہ کیک اور موم بتیوں سے لا علمی میں کس روایت کو نبھاتے ہیں۔

 

 

Share this...
Share on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedIn

One Reply to “Birthday in Islam-کچھ سالگرہ کے بارے میں”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *