دوستو! آج کل اکثر افراد کو اجنبی نمبروں سے کال یا میسج کی کوفت سے گزرنا پڑتا ہے۔ ذیل میں چند تجاویز پیش کی جا رہی ہیں کہ کیسے اس طرح کی فضول کالز سے بچا جا سکتا ہے۔

(01)

۔ اپنے تمام دوستوں، رشتے داروں اور فیملی ممبرز کے نمبر ان کے واضح نام کے ساتھ موبائل میں محفوظ رکھیں۔ تاکہ کال ریسیو کرنے سے قبل آپ کو اچھی طرح پتہ چل جائے کہ کس کی کال یا میسج ہے؟

Contact name

(02)

۔ کوشش کریں کہ آپ کا نمبر ہمیشہ ایک ہی رہے۔ تاہم ضرورت پڑنے پر زیادہ سے زیادہ 2 ہی نمبروں پہ اکتفا کریں اور اپنے استعمال کے نمبر سب دوستوں، رشتے داروں اور فیملی ممبرز کو تاکید کر کے ان کے پاس محفوظ کرائیں۔

(03)

۔ فیس بک پہ اپنا نمبر پوسٹ کرنا عجیب سا فعل ہے۔ آپ یہی کام ان باکس میں کر دیں یا اگر ضروری ہو تو پوسٹ کی پرائویسی فرینڈز تک محدود رکھیں۔

(04)

۔ عادت بنا لیں کہ اجنبی نمبر سے نہ کال ریسیو کرنا ہے اور نہ کسی میسج کا فوری جواب دینا ہے۔ خاص طور پہ ایسے میسجز کا پکا بائکاٹ کریں۔ صبا، مریم نام کے خدا واسطے کے لوڈ والے، انکم سپورٹ والے، پرائز بانڈ یا لاٹری والے، ہیلو، ہائ، سلام، جناب، کال می وغیرہ والے میسج۔ بسا اوقات کوئ آپ کو غصہ دلانے کے لیے غیراخلاقی جملے یا گالی وغیرہ لکھ سکتا ہے۔ مقصد صرف ایک ہے کہ کسی طرح یہ جواب دے یا غصے میں کال پک کرے۔

(05)

۔ اپنے واقف کاروں کو سمجھا دیں کہ اگر کسی ایمرجنسی میں دوسرے نمبر سے کال کریں تو پہلے ایک میسج کر کے انفارم کر دیں۔ یا کال ریسیو ہوتے ساتھ فوری اپنا نام اور دیگر حوالہ دے دیں۔

(06)

۔ جو افراد پڑھے لکھے نہ ہونے کی وجہ سے میسج نہیں پڑھ سکتے وہ کالز کے معاملے میں خوداعتماد بنیں۔ بعض اوقات کال کرنے والا نامعقول بات کرتا ہے۔ مثلا آپ کون ہو؟ ہیلو جناب پہچانا؟ اچھا گیس تو کرو۔ ہم فلاں کمپنی سے بات کر رہے ہیں۔ میں تھانے سے بات کر رہا ہوں۔ آپ کی کال آئ تھی وغیرہ۔ دو ٹوک جواب دیں کہ بھئ اپنا تعارف کرائیں کیونکہ میں آپ کو نہیں پہچانا۔ نہ اپ کا نمبر میرے پاس اس وقت سیو ہے۔ اس لیے اگر آپ تعارف نہیں کراتے تو میں کال ختم کر رہا ہوں۔ کنفیوز ہونے کی کوئ ضرورت نہیں کیونکہ کال ریسیو نہ کرنا کوئ جرم نہیں۔

 

(07)

۔ ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ کسی بھی صورت بدتمیزی کا جواب بدتمیزی سے نہ دیں۔ نامعقول صورتحال میں خاموشی بہترین حکمت عملی ہے۔

(08)

۔ جو نمبر آپ کے لیے کوفت کا باعث ہو اسے موبائل آپشن کے ذریعے بلاک کر دیں۔

(09)

۔ وٹس ایپ پہ ایک بات ہمیشہ مدنظر رکھیں۔ اپنے پروفائل فوٹو کی سیٹنگ میں جا کر پرائویسی

Only my contacts کر دیں۔ کیونکہ اگر آپ کا فوٹو پبلک ہو گا تو کوئ بھی آپ کا نمبر اپنے موبائل میں سیو کر کے وٹس ایپ پہ آپ کا فوٹو دیکھ سکتا ہے۔ Only Contacts کا فائدہ یہ ہے کہ صرف وہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں گے جن کا نمبر آپ نے ان کے نام کے ساتھ سیو کیا ہو گا۔

(10)

۔ آج کل سب سے زیادہ جعلسازی سکرین شاٹ کے ذریعے ہو رہی ہے۔ مثلا آپ کا فوٹو لے کر اسے جعلی فیس بک آئ ڈی یا وٹس ایپ وغیرہ کے پروفائل میں لگا کر جعلی میسج کر کے ان کا سکرین شاٹ شئیر کر کے آپ کو بدنام بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے سکرین شاٹ سچ ہوتے بھی ہیں اور نہیں بھی۔ بہرحال احتیاط ضروری ہے۔ اس لیے کسی بھی اجنبی سے بات کو طول نہ دیں۔

(11)

۔ آج کل کی نوجوان نسل جتنی تیز بنتی ہے، اتنی ہے نہیں۔ جذبات اور ذہن اتنے کچے ہیں کہ کوئ بھی لڑکی بن کے انہیں کال، میسج یا خصوصا جعلی فیس بک آئ ڈی کے ذریعے ایک منٹ میں اپنے جال میں پھنسا سکتا ہے۔ اس لیے ہماری ہر teenager بھائ/بہن سے گزارش ہے کہ فیس بک کی فیک آئ ڈیز اور اجنبی نمبروں سے پیار بھرے میسج یا کالز کا قطعی بائکاٹ کریں۔ یہ سب آپ کو احمق بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔ لیکن لالچ لالچ ہی ہوتا ہے۔ بندہ یہی سوچ کے فریب میں آ جاتا ہے کہ کیا پتہ سچ ہی ہو۔ لیکن یاد رکھیں۔ سچ اپنی اصل میں باوقار اور معزز ہوتا ہے۔ سچ کو اپنا آپ ثابت کرنے کے لیے کسی آئ ڈی، کال یا میسج کی ضرورت نہیں۔

 

(12)

۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئ اپنے تعارف میں آپ کے قریبی دوست یا عزیز کا نام لیتا ہے، لیکن وہ ہوتا کوئ اور ہے۔ جب وہ بات کر رہا ہو تو آپ اس کی آواز اور بولنے کے سٹائل پہ غور کرنا شروع کر دیں۔ آپ کو اندازہ ہونے لگے گا۔

(13)

۔ آخری بات، کچھ نوجوان شادی کے چکر میں فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ بلاشبہ بذریعہ فیس بک اکثر شادیوں کی خبر آتی رہتی ہے تاہم آپ نے کبھی مزید تحقیق نہیں کی، 90 فیصد سے زیادہ ایسی شادیوں کے نتائج خطرناک نکلتے ہیں۔ لہذا فیس بک کو شادی دفتر ہر گز نہ سمجھیں۔

(اللہ رب العزت ہم سب کو سوشل میڈیا اور ٹیلی کمیونیکیشن کے تمام ذرائع سے مختصر، مدلل، جامع اور حقیقت پرمبنی ہر قسم کے تکلفات سے پاک گفتگو کرنے، سننے کی توفیق دے۔ آمین۔

Share this...
Share on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedIn

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *