ہمارا آج کا عنوان ہے نظم و ضبط
ہمیں سب سے پہلے یہ مفہوم سمجھنا ہو گا کہ نظم و ضبط ہے کیا؟  نظم سے مراد حسن ترتیب ہے۔ یعنی صرف ترتیب نہیں بلکہ ایسی ترتیب جس میں سلیقہ، عقلمندی اور سگھڑ پن نمایاں ہو۔ لیکن کیسی ترتیب، یہ ایک وسیع کینوس ہے جس میں ہماری سوچ، عادات، ہمارے سارے تکیہ کلام اور حرکات و سکنات وغیرہ شامل ہیں۔ نظم و ضبط ایسا مرکب عطفی ہے جس میں ضبط اس کا لازمی حصہ ہے۔ ضبط سے مراد قوت برداشت ہے۔ لیکن یہ قوت برداشت دو قسم کی ہے۔ پسندیدہ باتوں پہ خود کو کنٹرول میں رکھنا۔ ناپسندیدہ باتوں پہ بھی خود کو اخلاقی حدود و قیود میں رکھنا۔

علامہ اقبال کا اسی موضوع پہ بہت خوبصورت شعر ہے

Discipline
Alama Iqbal say about Discipline

دہر میں دوام آئین کی پابندی سے ہے”
“موج کو آزادیاں سامان شیون ہو گئیں
کیا خوبصورت انداز ہے نوجوانان اسلام کو بالخصوص نظم و ضبط سکھانے کا۔ آپ دنیا کی کسی بھی ترقی یافتہ قوم کی عادات کا مشاہدہ کر لیں۔ آپ کو من حیث القوم ہر ترقی یافتہ قوم میں ایک مخصوص ڈسپلن نظر آئے گا۔ یہی وہ عادتیں ہوتی ہیں جو مہذب معاشروں کی تشکیل کیا کرتی ہیں۔
مہذب معاشرہ کی عکاسی اس طرح کی جگہوں پہ 100 فیصد خالص پن سے سامنے آتی ہے۔ دکانداری، گلیوں سڑکوں پہ، ٹریفک نظام میں، پولیس سسٹم میں، بس سٹاپ، ریلوے اسٹیشن اور ہوائ اڈوں پر، پبلک ٹوائیلٹس میں، ہوٹلز وغیرہ میں۔ علاوہ ازیں ایسے ملک کی مذہبی، سیاسی جماعتوں سمیت اشرافیہ کے کردار میں۔
ہم بطور پاکستانی معاشرہ نظم و ضبط میں دیگر اقوام عالم کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔ لیکن آپ نے اکثر محسوس کیا ہو گا کہ ہم اپنے اداروں میں فوج کو ٹاپ لسٹ پہ رکھتے ہیں۔ اس کی آخر کیا وجہ ہے؟ کوئ مشکل عقدہ نہیں۔ ہماری فوج کا نظم و ضبط مثالی ہے۔ نظم و ضبط ایک طاقت ہے جو ہمیں ایک سسٹم میں جکڑ کے ہماری اصلاح کرتی رہتی ہے۔ ڈسپلن کی دو جہتیں ہیں۔ محنتی کے لیے یہ سیلف ڈسپلن ایک مسلسل مثبت تحریک کا کام کرتا ہے۔ کاہل یا غیر منظم عادات کے شکار شخص کے لیے ایک ڈسپلن ماحول چابک یا تازیانے کا کام کرتا رہتا ہے۔
ڈسپلن کا بڑا گہرا تعلق ہماری زندگی کے مقاصد سے ہوتا ہے۔ دنیا کے نامور اور کامیاب افراد کے حالات زندگی پڑھ کے دیکھ لیں۔ مقصدیت ڈسپلن سے منسلک ہے۔ بطور مسلمان ہمارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی ہی اصل مشعل حیات ہے۔ حضور کی مقصدیت اللہ کا نظام دنیا میں رائج کرنا تھا۔ اور 63 سالہ زندگی میں آپ اپنی عبادات و ریاضت سے لے کر تعلیم، تبلیغ، غزوات، عائلی زندگی، کاروبار اور دیگر ایک اک سرگرمی میں انتہائ اعلی ترین نظم و ضبط پہ عمل پیرا نظر آتے ہیں۔ حتی کہ آپ کا غصہ اور شفقت بھی اخلاقی محاسن کے بہترین ڈسپلن کی نشانی ہے۔
ہم اکثر یہ سنتے ہیں کہ کامیابی ان لوگوں کے قدم چومتی ہے جو درست لمحہ پہچاننے کا ملکہ رکھتے ہیں۔ یہاں بہت سارے لوگ خود احتسابی سے بھاگتے ہوئے یہ کہہ کے اپنی جان چھڑا لیتے ہیں کہ ہم تو پیدائشی طور پہ ایسے ہیں کہ ہم درست لمحہ کی معرفت نہیں رکھتے۔ لیکن وہ اس راز کو نہیں سمجھ پاتے کہ جس جس شخص کی زندگی کا ہر فعل کسی قانون اور آئین کی پابندی کا خوگر ہوتا چلا گیا، وہ خود بخود کامیاب لمحات کو پہچاننے اور ان کی پیش گوئ کرنے پہ قادر ہوتا چلا جاتا ہے۔

شبانہ یوسف کا ایک شعر ملاحظہ ہو

Discipline
Shabana Yousaf say about Discipline

وہ نظم و ضبط کا اس طرح دھیان رکھے گا”
“کہیں پہ تیر کہیں پر کمان رکھے گا
جون والش نامی ایک مفکر نے کیا خوبصورت بات کہی تھی۔ “ایک پرندہ اس لیے گاتا ہے کیونکہ اس میں ایک گیت ہوتا ہے، اس لیے نہیں کہ اس کے پاس کسی بات کا جواب ہوتا ہے۔”
جناب والا! ہر شے کا اپنا ایک گیت ہوتا ہے۔ لیکن حضرت انسان کو اپنا راگ دریافت کرنا پڑتا ہے۔ اسے سر تال یعنی سرگم کی ریاضت کے لیے ایک نظم و ضبط اور موسیقی کا قاعدہ چائیے۔ انسان کا راگ وجودی طور پہ چار اجزا کا حامل ہے۔
لمبائ، چوڑائ، گہرائ اور سمت۔ یہ چاروں عناصر دراصل خدائ نظم و ضبط کے تابع ہیں۔ موت نام ہی اس کا ہے کہ انسان کی مادیت میں چھپا ڈسپلن برزخ میں فنائیت کی قید سے آزاد ہو جائے یعنی عالم فنا کے دہر سے نکل جاتا ہے۔
مشہور ریاضی دان فیثا غورث نے بھی ریاضیاتی استدلال کو نظم و ضبط کے سانچے سے دیکھا تھا۔ فیثا غورث کا کہنا تھا کہ ہر بشر اپنی ذات میں ایک منظم کائنات ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر کائنات Macrocosm ہے تو انسان اسی کائنات میں Microcosm کے درجے پہ فائز ہے۔ یہ cosm نظم و ضبط کے شکنجے کے بغیر کچھ ہے ہی نہیں۔

آئیے اب قرآن کا حوالہ جانتے ہیں کہ مالک کائنات ڈسپلن کے حوالے سے کیا فرماتے ہیں۔


بے شک ہم نے ہر شے کو ایک قدر و معیار کے مطابق پیدا کیا ہے۔ (القرآن)
اس نے آسمان کو اونچا اٹھایا ہے اور میزان مقرر کر دی ہے، تاکہ تم میزان کی خلاف ورزی کا ارتکاب نہ کرو۔ (القرآن)
تمام اجرام فلکی اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں” (القرآن)
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم قرآن جیسی کتاب کی واضح تعلیمات کی پیروی بھی نہیں کر پاتے۔ اس کی وجہ ہماری کم علمی و بے عملی ہے۔ ہم اپنے بہترین وکیل اور دوسروں کے بہترین نکتہ چین جو ٹھہرے۔
عدم گونڈوی کا ایک شعر ہے

Discipline
Adam godavi say about discipline

مجھ کو نظم و ضبط کی تعلیم دینا بعد میں”
“پہلے اپنی رہبری کو آچرن تک لے چلو
میں اپنی تقریر کا اختتام چند اشعار پہ کرنا چاہوں گا۔
خود کو فطرت کا ہار جانتے ہیں”
“سب پرندے قطار جانتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
“موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

Share this...
Share on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedIn

One Reply to “Today’s Topic: Discipline Equally useful for speech & written essay (Urdu)”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *